Sunday, June 24, 2018

آوڈیو یا ویڈیو قرآن سننے پر سجدہ تلاوت کرنے کا حکم


آوڈیو یا ویڈیو قرآن سننے پر سجدہ تلاوت  کرنے کا حکم


*سوال نمبر: ( 9 )*
*سوال*:
موبائل فون میں محفوظ قرآن کریم کی  آیت سجدہ سننے پر سجدہ تلاوت کا شرعاً کیا حکم ہے؟
*جواب*
سجدہ تلاوت اس وقت مسنون ہوتا ہے جب کہ قرآن کریم کی تلاوت میں پڑھنے والے کا قصد شامل ہو اگر پڑھنے والے کی تلاوت میں قصد نہ ہو تو آیت سجدہ پڑھنے اور سننے پر سجدہ تلاوت مشروع نہیں ہوتا جیسے  بھول کر ایسے ہی پڑھنے والا، سکھایا ہوا پرندہ نیز ہر وہ جامد چیز جس سے آیتِ سجدہ کا صدور ہو، لہذا ان سے آیت سجدہ سننے پر سجدہ تلاوت مسنون نہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موبائل فون میں محفوظ قرآن مجید کی یاکسی محفوظ پروگرام میں تلاوت شدہ آیت سجدہ سننے پر سجدہ تلاوت مشروع ومسنون نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ اس میں قصد پایا نہیں جاتاہے۔
علامہ سلیمان جملؒ فرماتے ہیں :
ومثل السكران المجنون والساهي والنائم والطيور المعلمة كالدرة ونحوها...  إما حيوان أو جماد وكل منهما لا يسجد لقراءته. ( حاشیة الجمل :٤٧٠/١)
قراءة النائم والجنب والسكران والساهي ونحو الدرة من الطيور المعلمة فلا يسن السجود لسماع قرائتهم؛ لعدم مشروعيتها وعدم قصدها. قال الكردي : عدم السجود لسماع قراءة الجماد مطلقاً. (المنهاج القويم مع حاشية الترمسى :٤٧٠/٣)
أن تكون القراءة مشروعة: فإن كانت محرمة كقراءة الجنب، أو مكروهة كقراءة المصلي في حال الركوع مثلا، فلا يسن السجود للقارئ ولا للسامع.
ثانيا ـ أن تكون مقصودة: فلو صدرت من ساه ونحوه كالطير وآلة التسجيل، فلا يشرع السجود.
( الفقه الإسلامي وأدلته ١١٣٢/٢)
 *اجابہ*: مولوی محمد اسجد ملپا
آوڈیو:
------------------------
*
منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
         زیر نگرانی
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
            مرتب
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

مسافتِ قصر سے کم پر قصر کرنا


مسافتِ قصر سے کم پر قصر کرنا

*سوال نمبر (8 )*
*سوال*:
 اگر کوئی شخص سفر پر ہو اور اسکا سفر مسافتِ قصر  سے زیادہ ہو لیکن اس نے shortcut راستہ سے سفر کیا جس کی مسافت مسافتِ قصر سے کم ہو تو کیا اس کے لئے قصر کرنا جائز ہے ؟
( سوال بذریعہ مولاناحذیفہ نظیر.مقیم دبئ)
*جواب:*
اگرکسی مسافرکے لئے اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے دو راستہ ہوں ایک مسافت شرعی کے بقدر یا اس سے زیادہ ہو اور دوسرا  راستہ مسافت شرعی سے کم ہواوریہ مسافرچھوٹا راستہ اختیارکرے تواسے قصروجمع کی گنجائش نہیں ملے گی۔

ولوکان لمقصدہ طریقان طویل وقصیر فسلک الطویل لغرض کسھولۃ اوامن ...قصروالافلافی الاظھر........ولاخلاف انہ اذاسلک الاقرب....لایقصر (النجم الوھاج:۲/۴۲۲)
اجابہ: مولوی خالدخان
آوڈیو:

------------------------
*
منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
         زیر نگرانی
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
            مرتب
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

درمیان وضوء حدث لاحق ہونے پر وضوء کا حکم


درمیان وضوء حدث لاحق ہونے پر وضوء کا حکم

*سوال نمبر  ( 7) *
*سوال*
 اگرکسی کودرمیان وضوء  حدث لاحق ہو جائے تو کیا اسی وضوء پر بناء کی جائے گی یا از سرنو وضوء کرنا ہوگا ؟
 (سوال بذریعہ مفتی نعمان مقادم)
   *جواب*
درمیان وضوء اگر کسی کو حدث اصغر لاحق ہو جائے تو اسے از سر نو وضوء کرنا ہوگا اسی پر بناء کرنا کافی نہیں ہوگا ۔
     ولو أحدث بعد ما أخذ التراب بطل قصدہ فعلیہ أن یاخذ ثانيا کما لو غسل بعض وجھہ ثم أحدث علیہ إعادة ماغسل ۔( التهذيب 1/356)
 *اجابہ*: مولوی خالدخان
آوڈیو:
-------------------------
*
منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
         زیر نگرانی
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
            مرتب
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

رات کے وقت عقیقہ و قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کا حکم

رات کے وقت عقیقہ و قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کا حکم

سوال نمبر (6)
سوال:
         رات کے وقت عقیقہ کے جانور کو ذبح کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب :
عقیقہ اورقربانی کے جانورکودن میں سورج طلوع ہونے کے بعد ذبح  کرنا افضل اور پسندیدہ ہے۔ اور رات کے وقت ذبح کرنا ناپسند ہے، اس لئے کہ رات میں ذبح صحیح نہ ہونے کاامکان ہے۔ البتہ رات میں اگر روشنی کا انتظام ہو اور دن میں ذبح کرنے میں کوئی عذر ہومثلاً دن میں ذبح کرنے میں کوئی دشواری ہو یا طلوع سے پہلے ہی گوشت مطلوب ہو وغیرہ  تو رات میں ذبح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
    واتقفوا على أنه يجوز ذبحها في هذا الزمان ليلاً و نهاراً لكن يكره عندنا الذبح ليلاً في غير الأضحية وفي الأضحية أشد كراهة. (1)
   قال الشافعي رحمه الله :فإذا ذبح ليلاً أجزأه، قال الماوردي :ذبح الأضحية ليلاً مكروه...  ولأنه ربما أخطأ محل ذبحها بظلمة الليل. (2)
   ويكره الذبح ليلاً إلا الحاجة كاشتغاله نهاراً بما يمنعه من التضحية. (3)
   ويستحب أن تكون الشاتان متساويتين وان يكون ذبح العقيقة في صدر النهار. (4)
(1)المجموع281/8
(2)الحاوي الكبير 114/15
(3)حاشية الجمل 213/8
(4)روضة الطالين 500/2
*اجابہ*: مفتی فواد پٹیل. مفتی مصطفی لوکھنڈے.مفتی ادریس پٹیل
آوڈیو:
-------------------------
*
منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
         زیر نگرانی
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
            مرتب
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کا حکم

اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کا حکمسوال نمبر (۵)

سوال:
اگر اذان شروع ہو جائے اور اس وقت جو حضرات مسجد میں بوقت اذان موجود ہو تو کیا ان حضرات کے لیے مسجد سے باہر نکلنے پر حدیث میں کوئی ممانعت وارد ہے ، سنا ہے کہ اگر ایسا شخص بھی اس وقت موجود ہو جسے دوسری مسجد میں امامت کرنی ہے تو ایسے شخص کے لیے مسجد سے باہر نکلنے کی گنجائش ہے ورنہ نہیں؟
*جواب*:
حضرت ابوشعثاء فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجدمیں بیٹھے ہوئے تھے تومؤذن نے اذان دی توایک شخص مسجد سے کھڑے ہوکر جانے لگے توحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان کی طرف برابر دیکھ رہے تھے جب وہ مسجد سے باہرنکلے تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ اس شخص نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی-(صحیح مسلم:۶۵۵)
اس حدیث کی روشنی میں فقہاء نے اذان کے وقت مسجدمیں موجود لوگوں کے لئے یا مؤذن کے لئے اذان کے بعد مسجد سے باہربغیرکسی ضرورت اوربغیرعذرکے نکلنا مکروہ قراردیاہے۔ اس لئے بغیرکسی عذرکے مسجدسے باہرنہیں نکلنا چاہیے البتہ کوئی ضرورت یا عذر ہومثلاً وضوکرنے کے لئے یا دوبارہ لوٹنے کی نیت سے نکلے تو مسجدسے باہرنکلنے کی گنجائش ہے۔لہذااگراذان کے وقت کوئی ایساشخص مسجدمیں موجودہوجوکسی دوسری مسجدمیں امامت کرتا ہوتواس کے لئے مسجدسے باہرنکلنے کی گنجائش ہے-
امام نوویؒ فرماتے ہیں:
فیہ کراھۃ الخروج من المسجدبعدالاذان حتی یصلی المکتوبۃ(شرح مسلم:۵/۱۵۷)
وﻳﻜﺮﻩ ﺧروج  اﻟﻤؤذن وﻏﻴﺮﻩ ﺑﻌﺪ الأذان ﻣﻦ ﻣﺤﻞ اﻟﺠﻤﺎﻋﺔ ﻗﺒﻞ اﻟﺼلاة إلا لعذر۔(حاشية الجمل :1/307)
 *اجابہ*: مفتی اسجدکردمے.مولوی عاقب کوکاٹے
آوڈیو:
-------------------------
*
منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
         زیر نگرانی
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
            مرتب
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

خرگوش کھانا شرعاً جائز ہے


خرگوش کھانا شرعاً جائز ہے

سوال نمبر(4):
*سوال*:
 خرگوش کھانے کا شرعاً کیا حکم ہے اور اس کی دلیل کیا ہے؟
(سوال بذریعہ مولوی اسجد ملپا)
*جواب*:
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے مر ظھران نامی جگہ ایک خرگوش پایا تو لوگوں نے اس کو پکڑ لیا پھر میں اس کو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اس کو ذبح کیا اور اس کی ران نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں بھیج دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسکو قبول فرمایا۔(بخاری:۵۵۳۵)
    اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے خرگوش کے گوشت کو تناول فرمایا اس وجہ سے فقھاء کرام رحمہم اللہ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ خرگوش کھانا جائز ہے.
علامہ ابن حجر عسقلانیؒ  فرماتے ہیں :
 وفي الحديث جواز أكل الأرنب۔ (فتح الباري ٦٦٢/٦)
 ويحل أكل الأرنب لقوله تعالى: {ويحل لهم الطيبات{  والأرنب من الطيبات (المھذب ٤٥٠/١)
الأرنب وهو حلال عندنا (المجموع :١٧/٩، مغني المحتاج:١٤٨/٦، الإقناع :٥٨٣/٢)
 *اجابہ مفتی اسجد کردمے مولوی طاہر شیخ
آوڈیو:

-------------------------
*
منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
         زیر نگرانی
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
            مرتب
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

سخت سردی میں تیمم کرنا


سخت سردی میں تیمم کرنا

سوال نمبر(۳)
*سوال*:
ہمارے یہاں یوکے میں اس وقت برف باری ہو رہی ہے اور سخت سردی جو ناقابل برداشت ہے تو ایسی صورت میں تیمم کی گنجائش ہے؟
(سوال بذریعہ مولاناداودہرنیکر یو-کے)
*جواب* : 
            حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ ذات السلاسل کی ایک ٹھنڈی رات میں مجھے احتلام ہوا اور مجھے ڈر لگا کہ اگر میں نے غسل کرلیا تو میں مر جاؤں گا چنانچہ میں نے تیمم کر کے اپنے ساتھیوں کو فجر کی نماز پڑھائی تو لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا :عمرو! تم نے جنابت کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو فجر کی نماز پڑھائی؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل نہ کرنے کا سبب بتلایا اور کہا :میں نے اللہ کا یہ فرمان سنا - کہ تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو بیشک اللہ تم پر رحم کرنے والا ہے- یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور کچھ نہیں کہا. (1)
            مذکورہ حدیث سے فقہاء نے استدلال کیا کہ شدید ٹھنڈی کے وقت تیمم کرنا جائز ہے.جبکہ ٹھنڈے پانی کے استعمال سے خطرہ ہو اور پانی گرم کرنے پر قدرت نہ ہو لہذا جس بھی علاقے میں برفباری وغیرہ کی وجہ سے سخت ٹھنڈی ہو جو ناقابل برداشت ہو تو تیمم کرنا جائز۔ البتہ  اپنے گھریا مقام پرپانی گرم کرنے پرقدرت نہ ہونے کی  صورت میں تیمم سے پڑھی ہوئی نماز کا اعادہ کرنا ہوگا کیونکہ اقامت کی حالت میں پانی کے گرم کرنے پر عموماً قدرت ہوتی ہے اور سفر میں پڑی ہوئی نمازوں کا اعادہ نہیں ہے۔
علامہ ماوردیؒ فرماتے ہیں

 فأما إذا خاف من استعمال الماء التلف لشدة البرد لا للمرض فإن كان قادراً على إسخان الماء لم يجز أن يتيمم، لأنه يقدر بعد إسخان الماء أن يستعمله، وإن لم يقدر على ذلك جاز أن يتيمم لحراسة نفسه فإذا تقرر بهذا الحديث جواز التيمم في شدة البرد إذا خاف التلف من استعمال الماء فتيمم وصلى انتقل الكلام إلى وجوب الإعادة، وذلك يختلف باختلاف حاله فإن كان في حضر فعليه الإعادة؛ لأن تعذر إسخان الماء في الحضر نادر. (2)
(1)ابوداؤد:334
(2)الحاوي الكبير 272/1
اجابہ: مفتی مبین پرکار.مولوی حسنین کھوت
آوڈیو:

-------------------------
*
منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
         زیر نگرانی
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
            مرتب
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan


شرمگاہ میں دوائی داخل کرنے سے غسل

کیا شرمگاہ میں دوائی داخل کرنے پر غسل واجب ہوگا


سوال نمبر(۲):
*سوال:*
اگرکسی عورت کوطبیب بطورعلاج شرمگاہ میں کسی قسم کی گولی یادوائی رکھنے کے لئے کہے توکیا اس عورت پردوائی رکھنے سے غسل واجب ہوگا؟
(سوال بذریعہ مفتی خالدجھٹام)
*جواب*:
وجوب غسل کے اسباب میں سے ایک جماع اور جنابت بھی ہے.اورحدیث کی روشنی میں غسل جنابت کے وجوب کے لئے مردکی شرمگاہ ( حشفہ کے بقدر) کاعورت کی شرمگاہ میں دخول شرط ہے.اس کے علاوہ کسی اورچیزمثلاانگلی یااورکوئی چیزعورت کے شرمگاہ میں داخل ہونے پرغسل واجب نہیں ہوتا.اس اعتبارسے اگرکوئی عورت بطورعلاج اپنی شرمگاہ میں کوئی گولی یادوا داخل کرتی ہے توغسل واجب نہیں ہوگا.
 *علامہ خطیب شربینی  رح فرماتے ہیں:*

 باب الغسل: موجبہ خمسۃ امور...وجنابۃ بدخول حشفۃ....  اوقدرھا ...فرجا( مغنی المحتاج:۱/۱۱۹)
ویجلد وجوباامام ...حرامکلفازنی بایلاج حشفۃ ...فخرج ایلاج غیرالحشفۃ کاصبعہ ...فلاحدفی جمیع ماذکرلانہ لایسمی زنا( اعانۃ الطالبین:۴/۲۱۸)
 وایلاج السلعۃ لایوجب الغسل علی المولج ولاعلی المولج فیہ( اعانۃ الطالبین:۱/۱۴۱)
 أن الأصبع ليست آلة للجماع،ولهذا لو أولجها في إمرأة حية لم يجب الغسل،بخلاف الذكر.
(1)المجموع 156/2
اجابہ *:مفتی زبیرپورکر.مولوی حسنین کھوت*
آوڈیو

-------------------------
*
منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
            مرتب
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

کیا تیتر کھانا شرعاً جائز ہے


سوال نمبر(۱(
*
سوال:*
آج کل مرغیوں کے فارم کی طرح تیترکے بھی فارم پائے جاتے ہیں.اورلوگ تیترکوبڑے شوق سے کھاتےہیں شرعاًاس کاکیاحکم ہے؟
جواب:
شریعت میں پنجوں سے شکارکرنےاورچیڑپھاڑکرنے والےپرندوں کےعلاوہ پرندےکھاناجائزہے.اورکبوتر،بگلاجیسے پرندے کھاسکتے ہیں.تیترکوعربی میں الحجل کہتے ہیں اورفقہاء نے صراحت کے ساتھ جائزپرندوں میں اس  کاشمارکیاہے.لہذاتیترکھاناجائزہے.اس لئے کہ تیتربھی طیب اورپاکیزہ پرندوں میں شامل ہے.

*
شیخ ابوزکریاانصاری رح فرماتے ہیں*
(فرع وتحل أنواع الحمام) من كل ذات طوق كالقمري والدبسي بضم الدال واليمام لاستطابته (والورشان) بفتح الواو والراء: ذكر القمري ويقال له ساق حر وقيل: طائر يتولد بين الفاختة والحمامة (والقطا) جمع قطاة، وهي طائر معروف (والحجل) بالفتح جمع حجلة، وهي طائر على قدر الحمام كالقطا أحمر المنقار والرجلين ويسمى دجاج البر، وهذه الثلاثة قال في الأصل إنها أدرجت في الحمام (وطير الماء) كالبط والإوز والطير الأبيض؛ لأنها من الطيبات۔
(أسني المطالب 565/1،مغنی المحتاج: 6/153)
...
واللہ اعلم ..
 اجابہ: *مفتی اسجدکردمے،مفتی مبین پرکار*
آوڈیو


-------------------------
*
منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*
مفتی فیاض احمد محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

مسبوق إمام کی اقتداء سے کب خارج ہوتا ہے؟

(سوال: ۱۱)* سوال :         مسبوق إمام کی اقتداء سے کب خارج ہوتا ہے. پہلے سلام کی ابتداء کے بعد یا پہلا سلام مکمل ہونے کے بعد یا دوسرے...